بنگلور:3 /فروری (ایس اونیوز/ایجنسی) بلاری پولیس نے کرناٹک کے ہمپی میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ پرتو ڑ پھوڑ کے معاملے میں ایک شخص کو حراست میں لیتے ہوئے معاملے کی تحقیقات تیز کر دی ہے۔
ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق شرارتی عناصر نے ہمپی میں پتھر کے ایک ستون کو مبینہ طور پر نقصان پہنچاتے ہوئے سوشل میڈیا پر اس کا ویڈیو وائرل کردیا تھا۔ ہفتہ کو سامنے آئے اس ویڈیو میں تین لوگوں کو کھدے ہوئے ستون کو مبینہ طور پر زمین پر گراتے، پھر اسے توڑتے ہوئے دیکھا گیا ہے ۔ دیگر نقصان پہنچائے گئے ستون بھی ارد گرد ہی دیکھے گئے ہیں لیکن فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ آیا ویڈیو میں نظر آنے والے لوگوں نے ہی اسے نقصان پہنچایا ہے۔
ذرائع کے مطابق مدھیہ پردیش میں بیتول کے ایک شخص نے ڈیجیٹل ایوش کے اکاونٹ سے انسٹاگرام پر ویڈیو کا اشتراک کیا تھا۔ تاہم ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اکاؤنٹ بند کر دیا گیا۔ وڈیو سوشیل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی مقامی لوگوں نے احتجاج شروع کردیا اور ہمپی مندر کے ستون کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
بلاری کے پولس سپرنٹنڈنٹ ارون رنگراجن نے بتایا کہ ملزمان کو پکڑنے کے لئے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں اس تعلق سے کافی سراغ ملے ہیں لہذا ملزمان کو جلد ہی گرفتار کرلیا جائے گا۔
بتایا گیا ہے کہ سنیچر شام کو ہی پولس نے ایک نوجوان کو اپنی تحویل میں لیتے ہوئے جانچ شروع کردی۔ مگر متعلقہ نوجوان کو حراست میں لینے کی اطلاع ملتے ہی دیگر لوگوں نے اُس کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ مگر خبر ہے کہ ایس پی رنگراجن نے اُسے رہا کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجیوں کے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا۔
ویسے متعلقہ وڈیو سنیچر کو وائرل ہوئی ہے، مگر پولس کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ متعلقہ توڑ پھوڑ کی وڈیو چھ ماہ پرانی ہے، اُدھر ارکیالوجکل سروے آف انڈیا ہمپی کے ذرائع نے بتایا ہے کہ متعلقہ واردات دو سال قبل کی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ارکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے اس تعلق سے پولس تھانہ میں کوئی معاملہ بھی درج نہیں کیا ہے۔